آئی ایم ایف یہودی پروٹوکولز پلان کا پہلا حصہ تھا، جس کا مقصد عالمی دولت کا بہاؤ اپنی جانب رکھنا ہے۔
بھٹو فیصل اور ضیاءالحق کو اسی پلان سے بغاوت کی سزا ملی، بی سی سی آئی کی تباہی کا محرک بھی یہی تھا۔
قیام پاکستان سمیت کالونیوں کے خاتمہ کا اصل محرک باشندوں کی جدوجہد آزادی نہیں بلکہ امریکی یہودیوں کی سر پر لٹکتی تلوار تھی
عمران خان اور ڈیانا کو قربانی کا بکرا بننے سے خیرالماکرین نے بچا لیا، آزاد بلوچستان سازش پر خیرالماکرین کو دخل دینے کی ضرورت نہ پڑی، پاک فوج چوکنا تھی، مشرقی تیمور کی تاریخ دہرائے جانے سے پہلے بگٹی ہلاک، مینگل گرفتار اور مری فرار ہو گیا
پاکستانیوں کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ یہ نہایت کرپٹ حکمران ہیں، اور امریکی ذمہ داروں کے اس قسم کے بیان سامنے آتے رہے کہ یہ تو پیسے کی خاطر ماں کو بھی بیچ دیں گے، ”کشمیر مؤقف“ کیوں نہ بیچیں گے؟
بھارت پاکستان ایٹمی دھماکوں کے بعد یہودیوں کو سمجھ آنے لگی کہ سو سال پہلے نجومیوں نے کیوں 97 19 ء کے بعد گریٹر اسرائیل کا قیام مشکل قرار دیا تھا
پوری تحریر ملاحظہ فرمانے کے لیے عنوان پر کلک کیجیے
پوری تحریر ملاحظہ فرمانے کے لیے عنوان پر کلک کیجیے
میرے اس مقالے کو شائع کرنے ترجمہ کرنے یا کسی بھی انداز میں پھیلانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ راشد خواجہ
انیسویں صدی میں جب دنیا سے غلامی کا خاتمہ کیا گیا تو اسلام کے سنہرے نظام کفالت ”ملک یمین“ کو بھی غلاموں لونڈیوں کا نظام قرار دے کر اسلامی دنیا میں اس پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ مسلمان کہلانے والے معاشروں میں اس نظام کی روح پہلے ہی مسخ کی جا چکی تھی تاہم اخلاقی حوالے سے بہرحال اس کے نفسیاتی ثمرات کا کچھ نہ کچھ وجود باقی تھا اور اس کے باعث معاشرے میں نیک نامی اور اخلاقی اقدار کی بلندی کی حیثیت دولت مندی کے مقابلے میں زیادہ باعث عزت و تکریم تھی۔یہ نظام معاشرے سے ہوس زر کے خاتمے کا ضامن تھا چنانچہ جب یہ معدوم ہوا تو صرف نصف صدی بعد مسلم معاشروں میں بھی ہوس زر اتنی بڑھ گئی کہ چند خبیث صیہونی اذہان کو قارونیت کی بنیاد پر عالمی فرعون بننے یعنی ساری دنیا پر حکومت کرنے کا منصوبہ قابل عمل دکھائی دینے لگا۔
یہودیوں میں علم نجوم کا وجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور سے برقرار ہے۔ جس طرح فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تمہارا تختہ الٹ دے گا.... ویسے ہی آج تک نجوم کا ان میں چلن برقرار ہے چنانچہ ان کے کہنے پر آج بھی پولیو کے قطروں کے ذریعے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات مثلاً نیسلے کی بچوں کی اشیائے خوردونوش کے ذریعے اور لیور برادرز کے صابنوں، ٹوتھ پیسٹوں اور مارجرین شیمپو وغیرہ کے ذریعے کئی سال سے نسوانی ہارمونز کو برانگیختہ کرنے والے سٹیمولنٹس کم سن بچوں میں پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ بڑے ہونے کے بعد ان بچوں میں سے لڑکوں کی ذہنی بناوٹ میں نہ تو حوصلہ مندی رہے اور نہ ہی جوش انقلاب، صرف بزدلی باقی ہو جبکہ دوسری طرف لڑکیوں میں جنسی جذبات کی شدت کے باعث اخلاقی اقدار اور پاکیزگیٔ کردار کے رویے ناپید ہوتے چلے جائیں اور یوں اقدار اور کلچر تبدیل ہوتا چلا جائے۔ یہ عین وہی انداز ہے جس سے قرآن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ”وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔“ اس کی تفصیل پر ہم اپنے اس مقالے کے اگلے سیکشن یعنی ”کرنے کا اصل کام“ میں گفتگو کریں گے
1897ءمیں ان نجومیوں نے یہودیوں کی مذہبی پیشوائیت کو بتایا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی کے اندر اندر عالمی صیہونی حکومت قائم ہونا ضروری ہے ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور اسے قائم کرنا مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق انسان کا درجہ صرف ان کی ہی نسل کو حاصل ہے جبکہ باقی تمام لوگ یعنی ہم اور آپ گوئم (جانور) ہیں جو ان یہودیوں کی خدمت کیلئے پیدا کیے گئے ہیں چنانچہ ان کے عقیدے کے مطابق کیپیٹل ازم کے تحت ہم سے سود کے ذریعے ہماری محنتوں کا ثمر حاصل کر لینا ان کے نزدیک ظلم نہیں ہے بلکہ ان یہودیوں کا حق ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 1897ءمیں ان یہودیوں کے چند سرکردہ لوگ یورپ میں جمع ہوئے اور عالمی حکومت کا سو سالہ خفیہ منصوبہ تیار کیا۔ کتابوں میں اس منصوبے کا مختصر نام ”پروٹوکولز“ مذکور ہے۔ شروع میں اس منصوبے کے مرکز کیلئے سرزمین یورپ کا تعین تھا لیکن بعد میں ( شاید نجومیوں کے مشورے سے) ارض فلسطین کا انتخاب کر لیا گیا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا لب لباب یہ مذکور تھا کہ کرنسی کی بنیاد پر ایک ایسا عالمی مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے دولت کا بہاؤ ایک مرکز کی طرف بہہ نکلے اور وہ قارونی مرکز خود انہی یہودی سربراہوں کے قبضہ و ملکیت میں ہو۔ اس مرحلے کی کامیابی وہ آئی ایم ایف کی صورت میں حاصل کر چکے ہیں۔ اس ادارے کا چارٹر جمہوری بنیادوں پر نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی بنیادوں پر اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کی سربراہی انہی کے ہاتھ میں رہتی ہے۔
دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ ہر فرعون کو اپنا آلہ کار بنانے کیلئے اسے اقتصادی بنیادوں پر اس قدر مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنے زیر عملداری علاقوں میں کیپیٹل ازم یعنی سرمایہ دارانہ نظام نافذ کر دے اور یوں کوئی فرعون جب اپنے عوام کی محنتوں کا ثمر ٹیکسوں، لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کی صورت میں ان سے چھینے تو اس کے پاس اس دولت کو محفوظ رکھنے کیلئے سوائے قارون کے، اور کوئی راستہ نہ ہو۔ یہ مرحلہ بھی ہر ملک کے قانونی قومی اثاثوں کیلئے ورلڈ بینک اور لوٹ کھسوٹ کی دولت کیلئے سوئس بینکوں کی صورت میں کامیابی سے ہم کنار ہو چکا ہے۔
اس منصوبے کا تیسرا اور آخری مرحلہ یہ تھا کہ کسی طرح ایسا انتظام ہونا چاہیے کہ کوئی مقامی فرعون عالمی یہودی قارون سے بغاوت نہ کر سکے اور اپنا الگ بینک، اپنی یو ایم او (یونائیٹڈ مسلمز آرگنائزیشن) نہ بنا سکے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسی قسم کا اعلان بھٹو اور شاہ فیصل نے لاہور کی سربراہی کانفرنس میں کیا تھا اور اس پر بعد میں پیش رفت کی کوشش کی تھی، دونوں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ بھولے بھالے سیدھے سادے جنرل ضیاءالحق نے امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بات کی اور افغانستان کو پاکستان کا حصہ بنا کر اسے ایک سپر پاور بنانا اپنا خواب بنا لیا چنانچہ ان کی وہ شہرہ آفاق تقریر جو انہوں نے اسلامی سربراہوں کی کانفرنس میں کی تھی، آج بھی بہت سے لوگوں کو یاد ہے جس میں انہوں نے نہایت جوش بھرے لہجے میں مسلم حکمرانوں کو یہ کہہ کر غیرت دلائی تھی کہ اسرائیل کی حیثیت ہی کیا ہے، اگر تم سب اقوام اس کے اردگرد کھڑے ہو کر محض ایک نعرہ لگا دو تو اس کا وجود ختم ہو جائے گا، اور اس کے باوجود تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس کے سامنے لرزہ براندام رہتے ہو.... اور پھر اس کے کچھ ہی ماہ بعد وہ خود بھی پراسرار انداز میں ہلاک ہو گئے۔
دبئی کے بادشاہ شیخ زید بن سلطان نے بی سی سی آئی بینک کا ڈول ڈالا اور اس کو عالمی بینک کے مقابلے میں امت مسلمہ کا بینک بنانے کی طرف پیشرفت کرنا چاہی۔ اس بینک کا انجام ہم ماضی قریب میں دیکھ چکے ہیں۔
عالمی قارون کے خلاف مختلف حکمرانوں کی ایسی بغاوتوں کی متعدد مثالیں دنیا میں موجود ہیں، یہاں تک کہ امریکی صدر کینیڈی کی بغاوت نے تو اس یہودی عالمی قارون کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب اس نے یہودیوں کے پرائیویٹ ادارے یعنی فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ کے ڈالرز کے مقابلے میں براہ راست حکومت امریکہ کی طرف سے ڈالرز جاری کرنا شروع کر دیئے تھے۔ اسی وجہ سے اسے اس قدر شدید سزا دی گئی کہ اس کے علاوہ اس کی تمام نرینہ اولاد کو بھی ہلاک کیا گیا تاکہ دیگر فرعونوں یعنی حکمرانوں کیلئے عبرت ہو۔ یہ ڈالرز یہودیوں نے نہایت سختی سے بند کرا دیئے اور جو پھیل چکے تھے انہیں افراط زر پیدا کر کے جیسے تیسے برداشت کیا لیکن آئندہ کیلئے اس کا حتمی سدباب ضروری ہو گیا تھا۔
آئندہ کیلئے اس طرح کی بغاوتوں کو روکنے کا طریقہ ان یہودیوں کے پاس یہی تھا کہ کسی بڑے خطۂ ارض میں خود انہی کی ایک سپریم پاور گورنمنٹ قائم ہو جائے جس میں انہیں امریکہ کے بورڈ کی آڑ میں دبکنا نہ پڑے، اور اسی سپریم پاور کے قیام کیلئے ان کے نجومیوں نے بیسویں صدی کے اندر اندر اس کا اعلان کرنے کی حد مقرر کی تھی۔ ہماری خوش قسمتی سے اس حد پر دورِ حاضر کے صیہونی بڑوں میں سے ایک بااختیار چنڈال چوکڑی ڈک چینی، رمز فیلڈ اور ورلڈ بینک کے سابق صدر وغیرہ نے کان نہیں دھرے حالانکہ ان کی مذہبی پیشوائیت اس گریٹر اسرائیل کے قیام کو اولیت دینے پر اصرار کرتی رہی تھی اور مشہور ہفت روزہ ٹائم کی 1992ءمیں ایک خصوصی اشاعت کا ٹائیٹل بھی ایسا شائع کیا گیا تھا جس میں اہرام مصر کے سامنے 2000ء میں گریٹر اسرائیل کے قیام کا جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور نئی صدی کے سال نو کے آغاز کو اس جشن کیلئے مختص کیا گیا تھا۔
دورِ حاضر کے صیہونی بڑوں کے کان نہ دھرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بحیرہ کیسپیئن کے دائیں کنارے سے قدرتی گیس اور تیل پر قبضہ کرنے اور اسے عالمی مارکیٹ میں بیچنے کا منصوبہ بنا لیا تھا جس کو وہ اپنی اولین ترجیح میں رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس میں کھربوں ڈالر کا منافع پنہاں تھا اور اس منصوبے میں تاخیر وہ اس لیے کرنہیں سکتے تھے کہ توانائی کے متبادل ذرائع مارکیٹ میں آنے کو بالکل تیار تھے اور قوی امکان تھا کہ تاخیر کی صورت میں تیل کی طلب ہی کم ہو جائے، اور یوں قیمت گر جانے سے وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔
یہ باتیں دور حاضر سے متعلق ہیں چنانچہ ان پر ہم آئندہ سطور میں ان کی باری پر توجہ دیں گے، یہاں ہم 1897ءمیں جنم لینے والے منصوبے پروٹوکولز کے مابعد اثرات کو زیر نظر لا رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ جس کے اہداف اور مراحل ”پروٹوکولز“ کی صورت میں 1897ءمیں ہی مقرر ہو گئے تھے، کم و بیش آٹھ سال تک پردۂ راز میں رہا، لیکن آٹھ سال بعد انہی صیہونی سربراہوں میں شامل ایک عورت یہ منصوبہ راز میں نہ رکھ سکی اور مبینہ طور پر اپنے کسی شہوانی لالچ میں یہ منصوبہ اپنے خاص مرد کے سامنے آشکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت کے بعد سے یہودی ہائی کمان نے آئندہ سے کسی عورت کو کلیدی عہدہ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ سو سال میں امریکہ میں کبھی کوئی عورت صدر تک منتخب نہیں ہو سکی، صیہونی بڑوں میں شامل ہونا تو بڑے دور کی بات ہے۔
جب یہ منصوبہ طشت ازبام ہو گیا تو اس کے ردعمل میں انسانیت کو دو عالمی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی برتر قومیت کے عقیدے کا ردعمل تھا کہ جرمن قوم اشتعال میں آئی اور وہاں کے کچھ یہودیوں کو ہٹلر نے مبینہ طور پر قتل کیا جبکہ باقی بھاگ نکلے اور اسے بڑھا چڑھا کر ہالو کاسٹ کا نام دیا تاکہ اس پراپیگنڈے کے زور پر کسی وقت عیسائی دنیا کی ہمدردیوں کو گریٹر اسرائیل کے قیام کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ (یاد رکھنا چاہیے کہ آج بھی بہت سے ممالک جہاں یہودیوں کی پس پردہ قوت توانا ہے، مثلاً شمالی امریکہ اور سکینڈے نیویا کے ممالک، وہاں آج بھی ہالوکاسٹ کے خلاف زبان کھولنے کی آزادی نہیں ہے۔)
ہماری رائے میں قیام پاکستان سمیت دنیا سے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا اصل محرک بھی یہی منصوبہ تھا۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ امریکی حکومت کی لگامیں یہود کے ہاتھ میں ہیں، حتیٰ کہ امریکی ڈالر جاری کرنے والا ادارہ فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ بھی امریکی حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی ہے جس کے تقریباً تمام شیئرز انہی کی ملکیت ہیں اور امریکی حکومت اس ادارے کی ہر وقت مقروض ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں ایٹم بم کے استعمال کے بعد امریکہ یا صحیح تر الفاظ میں یہودیوں کی بالا دستی مسلمہ ہو چکی تھی اور برطانیہ سمیت کسی ملک کو اس کے حکم کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں تھی ورنہ انگریز کو اس نو آبادیاتی نظام سے دستبردار ہونا قطعی گوارا نہ تھا۔
اس وقت پروٹوکولز منصوبے کے دوسرے مرحلے کیلئے جہاں آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا وہاں ان یہودیوں کی ایک ضرورت یہ بھی تھی کہ دوسری جنگ عظیم میں قائم ہونے والی ان کی بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کیلئے گاہک پیدا کیے جائیں۔ اس وقت فیصلہ کیا گیا کہ دنیا سے نو آبادیاتی نظام کا اس طرح خاتمہ کرایا جائے کہ اس کے نتیجے میں آزاد ہونے والے ممالک مختلف تنازعات کے باعث باہم متصادم رہیں اور ان اسلحہ ساز فیکٹریوں کا اسلحہ بکتا رہے۔ قیام پاکستان کے وقت کشمیر کا تنازعہ اسی لیے تخلیق کیا گیا تھا اور اسی مقصد کیلئے پاکستان کو چھوٹا اور کمزور رکھا گیا مبادا کہ تیس کروڑ اچھوت ذات کا ہندو اسلام قبول کر لے اور یہ ملک پھر ایک ہو جائے، ایک سپر پاور بن جائے اور ان یہودیوں سے اسلحہ خریدنا بند کر دے۔ اسی مقصد کیلئے دو سپر طاقتوں کو وجود میں لایا گیا تاکہ متحارب ممالک کو سرپرستی کا احساس رہے اور وہ متحارب رہیں۔
ستر کی دہائی میں جب بحیرہ کیسپیئن کے مشرقی کنارے سے دنیا کا اس وقت کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت ہوا تو صورت حال یکلخت الٹ گئی۔ عالمی صیہونی قارون نے اس تیل پر قبضہ کرنے اور اس کو بیچنے کا منصوبہ ترتیب دیا۔ قبضہ کرنے کیلئے ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ چونکہ روسی سوشلزم میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرایت کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے روس کے صوبہ ترکمانستان کو آزاد کرایا جائے اور پھر وہاں یہودیوں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن میں یہودی بینکوں کی سرمایہ کاری ہوتی ہے، اس تیل کی کھدائی اور ترسیل و فروخت کا ٹھیکہ لیں اور دولت کے سیلاب کا ریلا یہودیوں کے خزانوں کی طرف بہہ نکلے۔
اس مقصد کیلئے پہلے تو روس کو یہ کہہ کر افغانستان پر حملہ کرایا گیا کہ اس طرح وہ تیل کیلئے سب سے اعلیٰ مارکیٹ برصغیر اور پھر گرم سمندر تک تیل اور گیس کی پائپ لائن بچھا سکے گا۔ پھر جب اس نے افغانستان میں انفراسٹرکچر کے طور پر اعلیٰ درجے کی سڑکیں تیار کر لیں تو آئی ایم ایف کے ذریعے اسے دیوالیہ قرار دے کر اس کے ٹکڑے کر دیئے گئے تاکہ یہودی ملٹی نیشنل کمپنیاں نوزائیدہ ترکمانستان کی خالی ہاتھ حکومت سے کوڑیوں کے داموں تیل کے ٹھیکے حاصل کر سکیں۔
اس کامیابی کے بعد اس تیل کی فروخت کا مرحلہ تھا۔ بہترین مارکیٹ ساو ¿تھ ایشیاءاور شمال میں چین کی صورت میں دستیاب تھی اور یہاں تک تیل پہنچانے کا واحد براہ راست ذریعہ تیل کی پائپ لائن ہی ہو سکتی تھی لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاک بھارت مخاصمت تھی۔ اس مخاصمت کو ختم کرنے کیلئے پہلے تو سارک تنظیم کا ڈول ڈالا گیا لیکن دونوں ممالک کی پس پردہ قوتیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، کشمیر سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھیں۔ بھارت چونکہ اس تیل کا سب سے بڑا ممکنہ گاہک ہے اس لیے مسئلۂ کشمیر پر اس کی ناراضگی ان یہودیوں کو گوارا نہیں تھی جبکہ پاکستانیوں کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ یہ نہایت کرپٹ حکمران ہیں، اور امریکی ذمہ داروں کے اس قسم کے بیان سامنے آتے رہے کہ یہ تو پیسے کی خاطر ماں کو بھی بیچ دیں گے۔ اس قسم کے بیانات میں بین السطور یہی تھا کہ ان حکمرانوں کو ”انڈر دی ٹیبل“ رقم دے کر کشمیر کے موقف سے دستبردار کرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہاں حکومت خواہ سویلین ہی کیوں نہ ہو، فیصلہ کن اختیارات ہمیشہ باوردی آہنی ہاتھوں میں ہی رہتے ہیں۔
یہاں ان یہودیوں کی خوش فہمی کے بلبلے پھوٹنے لگے اور مسئلہ کشمیر کے متعدد ضمنی تنازعات مثلاً سیاچن، خالصتان، سرکریک، وولر ڈیم اور بگلے ہار ڈیم تنازعات بھی یکایک سر ابھارنا شروع ہوئے جبکہ بھارت اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تاکہ امریکی یہودی اپنے مفادات پورے کرنے کیلئے ان پر دھمکی آمیز دباؤ ڈالنے کی جرأت نہ کر سکیں۔ ادھر دوسری طرف تیل کا یہی ذخیرہ چونکہ ایران کو بھی مس کرتا ہے اس لیے ایران سے تیل اور گیس خریدنے کی باتیں پاکستانی حکمرانوں نے کرنا شروع کر دیں۔ اس پر صیہونی منصوبہ سازوں نے ایران کا محاصرہ کرنے کا منصوبہ تیز کر دیا لیکن اس کا ذکر ہم بعد میں اپنے وقت پر کریں گے، پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ انہوں نے اپنے مفادات کیلئے کیا کیا سازشیں کیں۔
گزشتہ ہزاریئے کا آخری عشرہ جس کو نجومیوں نے گریٹر اسرائیل کے قیام کی حد قرار دیا تھا اس کے آغاز تک یعنی سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ایک دو برس بعد تک جب پاکستان ”ماں“ کو بیچنے پر تیار نہیں ہوا تو ان صیہونی سرکردہ لوگوں میں دو گروپ بن گئے۔ ایک گروپ نجومیوں کے کہنے کے مطابق گریٹر اسرائیل کے فوری قیام کا حامی تھا جبکہ دوسرے گروپ کی ترجیہات میں تیل کی فروخت یعنی حصول دولت پہلی ترجیح تھی۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انہی میں سے ایک سرخیل سر جیمز گولڈ اسمتھ نے انفرادی طور پر پاکستان کی حکومت پر قبضہ کرنے کیلئے ایک شاطرانہ چال کھیلی۔ وہ جان چکا تھا کہ پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر آمادہ نہیں ہے اور منظم ترین آرمی ہونے کی وجہ سے لوہے کا چنا ثابت ہو گا چنانچہ ضروری ہے کہ بھرپور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ پاکستان کی حکومت ہتھیائی جائے اور برسراقتدار آتے ہی خوشحالی کے نام پر عوامی نعروں کی گونج میں بھارت سے گیس پائپ لائن معاہدہ کر لیا جائے تاکہ پائپ لائن کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہ بننے پائے اور سرمایہ دار قارونی ذہنیت جس کی سرخیل ڈک چینی، رمزفیلڈ اور ورلڈ بینک کے سابق صدر کی ٹرائیکا تھی اور اس پائپ لائن کو گریٹر اسرائیل سے زیادہ قابل ترجیح قرار دے رہی تھی، گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں بھی مزاحم نہ ہونے پائے۔ یہ شاطرانہ چال انتہائی مکمل، فول پروف اور اس قدر سریع الاثر تھی کہ اگر خدا کی مدد نہ آتی تو ہم با آسانی اس سازش کا شکار ہو سکتے تھے لیکن شاید یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ یہ چال خیر الماکرین نے جہنم واصل کر دی۔
اس چال کی تفصیل یوں سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں بھولے بھالے عمران خان کو استعمال کیا جانا تھا۔ پہلے تو عمران خان کو قومی ہیرو بنا کر کرکٹ کا ورلڈ کپ جتوایا گیا، پھر ہسپتال کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کے ذریعے انہیں عوام میں ایک مسیحا کی صورت متعارف کرایا گیا۔ جب گولڈ سمتھ صاحب کو یہ یقین ہو گیا کہ عوام عمران کو بطور وزیراعظم قبول کرنے کیلئے تیار ہو چکے ہیں تو انہوں نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور عمران کو اپنا داماد بنایا۔ ان کی بیٹی جمائمہ نے عمران سے شادی کی خاطر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور پھر عمران غالباً نادانستگی میں اس منصوبے کا شکار بنتے چلے گئے۔
اس منصوبے کو مزید فول پروف بنانے کیلئے لیڈی ڈیانا کو قربانی کی بکری بنانے کا لائحہ سامنے آتا ہے۔ پہلے تو اسے جمائمہ کی ایک گہری سہیلی کے طور پر پیش کیا گیا اور پھر جہلم کے ایک ڈاکٹر حسنات جو برطانیہ میں مقیم تھے ان کے ساتھ ڈیانا کا معاشقہ مشہور کیا گیا اور یہ تاثر عام کیا گیا کہ برطانیہ کی شہزادی جو ہونے والے بادشاہ کی ماں بھی ہے، اب پاکستان کی بہو بننے جا رہی ہے۔ اسے بار بار پاکستان لایا جانے لگا، دوپٹے اوڑھائے جانے لگے، شندور میلہ اور بادشاہی مسجد کے تبرکات وغیرہ اسے دکھائے جاتے اور معروف سرکاری مولوی حضرات اسے اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے۔ اخباری رپورٹس کے مطابق تلقین شاہ (اشفاق احمد مرحوم) ڈیانا کو پاکستان کی بہو بنانے کیلئے ڈاکٹر حسنات کے گھر والوں کو منانے کی کوششوں میں سرگرم بتائے جاتے۔
صاف دکھائی دے رہا تھا کہ پلان یہی ہو سکتا ہے کہ یہ ایکسرسائز چلتی رہے گی پھر الیکشن کا وقت آئے گا اور عین اس وقت جب انتخابی مہم پورے عروج پر ہو گی اور ڈیانا عمران کے شانہ بشانہ مہم میں سرگرم ہو گی، اندھی گولیوں کی ایک بوچھاڑ سے عمران خان اور ڈیانا کو ہلاک کر دیا جائے گا، الزام مخالف سیاسی پارٹیوں پر آئے گا اور پھر بیوہ جمائما خان عمران خان شہید کے بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے ہمدردی کے ووٹوں کی بنیاد پر انتہائی طاقتور وزیراعظم بن جائے گی اور آتے ہی مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف سے دست بردار ہو جائے گی، اس کی قوت اور مینڈیٹ کے باعث آہنی ہاتھ بھی مجبور ہو جائیں گے اور یوں بھارت سے گہری دوستی ہو جائے گی، خوشحالی کے نام پر تیل کی پائپ لائن بچھ جائے گی، اور دوسری طرف گریٹر اسرائیل کے راتوں رات قیام کیلئے کوئی رکاوٹ نہ رہے گی۔
اگر یہ منصوبہ چلتا رہتا تو ہمارے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوتی اور یہودی مفادات پورے ہو چکے ہوتے لیکن یہاں خیر الماکرین کی رحمت بروئے کار آئی اور اس منصوبے کا خالق و سرپرست سر جیمز گولڈ اسمتھ ہی غیر متوقع طور پر مر گیا۔ ادھر ”سیتا وائٹ فیکٹر“ نے بھی عمران کی مقبولیت پر اثر ڈالا۔ دوسری طرف صدر پاکستان نے وقت سے پہلے اسمبلیاں توڑ دیں اور نئے انتخابات کا اعلان ہو گیا جبکہ ابھی عمران کی الیکشن مہم کی تیاری ہی بھرپور نہ تھی۔ یوں یہ منصوبہ اپنی موت آپ مر گیا۔
ڈیانا کا ذکر بھی اس ضمن میں دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ اس تمام ایکسرسائز کے دوران اس پر اسلامی تعلیمات کا سچ مچ اثر ہونے لگا تھا اور اس منصوبے کے سبو تاژ کے بعد وہ ایک عرب مسلمان داؤد الفوائد کے ساتھ جسے میڈیا ڈوڈی الفوائد لکھتا رہا ہے، دکھائی دی جانے لگی۔ دونوں کے درمیان تعلقات کی قدر مشترک کی نوعیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان جن تحائف کا تبادلہ ہو رہا تھا وہ اسلامی کتب پر مشتمل تھے۔ ڈیانا نے داؤد کو اس کی سالگرہ پر حسنین ہیکل کی کتاب "الفاروق" تحفے میں دی اور اس پر یہ نوٹ لکھا کہ تمہاری تاریخ کتنی روشن ہے۔۔۔ یہ اس کے اسلام سے متاثر ہونے کی صریح علامت تھی۔ اس انکشاف پر ان یہودی بڑوں میں ہڑبڑاہٹ مچ گئی اور ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ضروری ہو گیا چنانچہ سرنگ کے اندر ٹریفک حادثے کی آڑ میں انہیں بھی ہلاک کر دیا گیا اور یوں یہ قصہ بھی ختم ہوا۔
اب پاکستانی حکمرانوں کی بن آئی تھی، یہودیوں نے بھارت پر خزانوں کے منہ کھول دیئے، واجپائی نوبل پرائز کے لالچ میں بس یاترا کے ذریعے دلی سے لاہور آیا لیکن طاقتور آہنی حلقے بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر تعلقات استوار کرنے کے حق میں نہیں تھے چنانچہ منتخب حکمرانوں کی مرضی کے خلاف کارگل کا پہاڑ میدان جنگ بنا، بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو اسی اختلاف کی وجہ سے ہی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
مختصر یہ کہ دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کی تمام کوششیں آگرہ مذاکرات سمیت ناکام ہوتی رہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی صورت میں پاکستان کی طرف سے پہلے ہی یہ پیغام سوچا سمجھا موجود تھا کہ اگر آئی ایم ایف کے زور پر روس کی طرح پاکستان کو بھی دیوالیہ قرار دینے اور اس کے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی تو دلی اور تل ابیب کی ایٹم بم سے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔ اب ان یہودیوں کو سمجھ آنے لگی کہ نجومیوں نے کیوں 1997ءکے بعد اس کام کو مشکل قرار دیا تھا ۔
دوسری طرف ایران کو بھی اس ذخیرے کا تیل بیچنے سے روکنا ضروری تھا۔ ان یہودیوں کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایران کو بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرا دی گئی ہے اور اگرچہ اس کا الزام پاکستان کو بچانے کی خاطر محسن پاکستان نے اپنے اوپر لے لیا تھا تاہم وہ یہودی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر نے یہ کام دولت کے لالچ میں نہیں کیا تھا۔ بہرحال اب ان کے پاس ایران پر براہ راست حملہ کرنے کی ممکنات ختم ہو چکی تھیں چنانچہ انہوں نے ایران کا محاصرہ تیز کرنے کا منصوبہ بنایا اور پہلے صدام کے بہانے سے عراق پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا پھر افغانستان کی باری آئی۔ ایران کی دوسری بڑی سرحد افغانستان سے ملتی ہے چنانچہ افغانستان پر حملے کا جواز بنانے کیلئے انہیں ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ کرنا پڑا تاکہ اس کا الزام کسی ہوائی لیبل مثلاً ”القاعدہ“ پر لگا کر یہ حملہ کیا جا سکے۔
اس کے بعد انہوں نے بلوچستان کو پاکستان سے چھیننے کا اقدام کیا تاکہ ایک طرف ایران کا محاصرہ مکمل ہو سکے اور اسے تیل کے اس ذخیرے کو دنیا میں فروخت کرنے سے روکا جا سکے، اور دوسری طرف ترکمانستان سے براستہ افغانستان، بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کی راہ میں پاکستان رکاوٹ نہ بن سکے اور اس پائپ لائن کو افغانستان سے بلوچستان کی بندرگاہ تک اور پھر اگر ضرورت ہو تو سمندر کے راستے بھارت تک لے جایا جا سکے۔ اس سازش کے تحت بگٹی، مری اور مینگل قبائل کے ایک ایک بڑے سردار کو ساتھ ملایا گیا۔ منصوبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہاں مشرقی تیمور کی تاریخ دہرائی جاتی۔ یہ تین سردار مل کر آزاد بلوچستان کا اعلان کرتے جس کے بعد آناً فاناً امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں بلوچستان میں داخل کرتا اور اسے آزاد ریاست تسلیم کر لیتا۔ الحمدللہ یہاں خیر الماکرین کو دخل دینے کی ضرورت نہیں پڑی، پاک فوج چوکنا تھی، سردار بگٹی ہلاک، سردار مینگل گرفتار اور سردار مری فرار ہو گیا اور یہ منصوبہ بھی غتربود ہو گیا۔
آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہودی بڑوں میں پھوٹ ابھی تک پڑی ہوئی ہے اور اب گریٹر اسرائیل کا حامی پہلا گروپ اختیارات پر قابض ہو چکا ہے جبکہ رمز فیلڈ گروپ جس میں وال سٹریٹ کے سرمایہ دار یہودی شامل ہیں، اربوں ڈالر کا بیڑا غرق کر کے ناکام ہو کر اگرچہ کارنر ہو چکا ہے تاہم گریٹر اسرائیل کو پس پشت ڈال کر افغانستان پراجیکٹ پر اوباما کو مجبور کرنے کیلئے اپنی سی کوششیں کر رہا ہے۔
اب حالات بدل گئے ہیں۔ نجومیوں کی یہ بات سچ نکلی کہ 1997 کے بعد گریٹر اسرائیل کا قیام نہایت مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ اس کی پہلی مثال 1998 میں ہونے والے بھارت اور پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے تھے۔ دوسری طرف ان کے ہاتھ سے ان کی سب سے بڑی قوت یعنی عالمی میڈیا پر اجارہ داری بھی سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے عام ہونے کے باعث گویا پگھلنے لگی اور عالمی رائے عامہ نے بے وقوف بننا بند کر دیا، لیکن اب سٹپٹانے سے کیا ہو سکتا تھا، سرمایہ دار ٹرائیکا کو تو انہوں نے رسوائی کے ساتھ بے اختیار کر کے تقریباً کارنر کر دیا ہے لیکن گزرا وقت اور اربوں ڈالر جو پائپ لائن منصوبے پر بہائے جا چکے ہیں واپس نہیں لائے جا سکتے اس لیے وہ پاکستان کو رام کرنے کیلئے اس پر ہر طرح دباؤ ڈال رہے ہیں اور ہر ممکن حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
اسی مقصد کیلئے بدترین کرپٹ لوگوں کو برسراقتدار لانے کیلئے سازشیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط دکھائی نہ دے گا کہ اسی مقصد کیلئے بے نظیر کی جان کے خواہشمندوں کو شارپ شوٹر فراہم کیے گئے تاکہ محترمہ کے قتل کے بعد ہمدردی کے ووٹوں کے ذریعے کرپٹ سوچ کے حامل لوگ حکمران بن سکیں اور پھر اپنی اس ذہنیت کے زیر اثر اپنے لیے مال بنا کر بھارت سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ تربیت یافتہ طالبان ہیں جنہوں نے انہیں افغانستان میں اس حد تک غیر محفوظ کر رکھا ہے کہ کابل میں ہی ان کی حکومت ایک محدود سے علاقے پر مشتمل رہ گئی ہے۔
بعض لال بجھکڑوں کا کہنا ہے کہ انہی طالبان کی افزائش کی خاطر آہنی ہاتھ اس قوم کو اقتصادی طور پر نچوڑ رہے ہیں، بجلی بحران اور اضافہ شدہ سیلابوں کے ذریعے خود کش بمباروں کی فصل کاشت کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاکہ اگر امریکہ انگلیاں ٹیڑھی کرنے لگے تو وہ انگلیاں کاٹی جا سکیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جب تک ہماری امریکہ کے ساتھ حالت جنگ کی کیفیت موجود ہے اقتصادی بدحالی قائم رکھی جائے گی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک امریکہ طالبان سے بات چیت یعنی سودے بازی کی کوشش کرتا رہے گا، تب تک اس کی سٹی گم کرنے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں ایسے بدحال پختون درکار ہوتے رہیں گے جو اس سودے بازی کیلئے طالبانیت کا نعرہ لگا کر منہ کھول کھڑے ہوں اور جن کی تعداد دیکھ کر اس امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھولتے رہیں، اور ظاہر ہے کہ ایسے پختون خوشحالی کے ماحول میں نہیں مل سکتے۔
سچ تو یہ ہے کہ افغانستان میں برسرپیکار طالبان پاکستان کیلئے امریکہ کے خلاف ذہنی جنگ میں ایک غیر محسوس لیکن پختہ ڈیفنس لائن کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس فصیل میں امریکی حکومت طالبان سے مذاکرات یعنی انہیں رشوت کی پیشکش کر کے دراڑ ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہے اور جب اس میں کامیاب نہ ہو سکے گی تو ان یہودیوں کی سمجھ میں آ جائے گا کہ ان سے کہاں غلطی ہو رہی ہے اور انہیں اصل میں کیا کرنا چاہیے۔
ان طالبان کا خمیر مذہبی عقیدے سے اٹھا ہے۔ ہر خودکش بمبار اپنے پسماندگان کیلئے لاکھوں روپے ادائیگی کی گارنٹی کے بعد بھی سچے دل سے خود کو جنت کے راستے پر محو سفر سمجھتا ہے۔ اس بات کا ابھی تک وہ یہودی کماحقہ ادراک نہیں کر سکے۔ جس روز ان کی سمجھ میں آ گیا، ان کے پاس صرف دو راستے رہ جائیں گے۔ یا تو مسلمانوں کے خلاف میڈیا وار کا آغاز کریں اور لونڈی غلام کے فلسفے، انسانی حقوق، مذہبی فرقہ بندیوں یا نظام بینکاری وغیرہ کے نام پر اسلام کے خلاف پراپیگنڈا شروع کریں اور ایسے لوگ کھڑے کریں جو اسلام کو جھوٹا اور ناقابل عمل مذہب ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اس بات سے وہ خوفزدہ ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ قرآن زندہ کتاب ہے اور اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی مذہبی پیشوائیت کے متعدد فرقوں نے مذہبی دکانداریاں شروع کر رکھی ہیں اور منظر حق کا ایک کونا اوجھل ہے لیکن جیسے ہی کوئی سلمان رشدی کھڑا ہوا، یہ کونا بھی روشن ہو جائے گا جس کے آثار مجھے بالکل صاف دکھائی دے رہے ہیں (طوالت کے خوف سے یہاں ان آثار کے ذکر سے گریزاں ہوں،انشاءاللہ اگلے مضمون میں بیان کروں گا) ۔
دوسرا طریقہ ان کے پاس یہ ہے کہ علمی جنگ لڑنے کی بجائے پراپیگنڈا جنگ لڑتے ہوئے یہاں سے دور کسی دوسرے علاقے میں جہاد کا ایسا میدان لگائیں جو بادیٔ النظر میں طالبان کیلئے افغانستان سے زیادہ اہم ہو.... اور یہ میدان صرف مشرق وسطیٰ میں لگ سکتا ہے اور ایران پر حملے کی آڑ میں قبلۂ اول کے انہدام اور گریٹر اسرائیل کے اعلان کی صورت میں ہی لگ سکتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میدان جہاد نہ رہے تاکہ پائپ لائن کیلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ضائع نہ جائے اور گریٹر اسرائیل بھی قائم ہو جائے اور اس کا انہیں بہترین طریقہ یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز ہو جائے تاکہ دیگر علاقوں سے مجاہدین کی توجہ ہٹ جائے اور وہ جوق در جوق قبلہ اول کو بچانے کے نام پر ادھر کا رخ کرنے لگیں۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی سوچ کا رخ اسی طریقے کی جانب ہے چنانچہ دکھائی دیتا ہے کہ فلسطین کیلئے بحری جہازوں کے امدادی قافلے پر گزشتہ اسرائیلی حملہ دراصل ایک ٹسٹ کیس تھا تاکہ اس حرکت پر عالمی ردعمل کا اندازہ کر کے یہ تعین کیا جا سکے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کے نام پر تیسری عالمی جنگ کی بھٹی دہکائی جائے تو عیسائی دنیا کا ردعمل کیا ہو گا، کیا وہ اسرائیل کے تحفظ کیلئے اٹھے گی؟ اور کیا بائیبل میں مذکور حضرت مسیح کے اس قول کی بنیاد پر کہ میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے آیا ہوں، اور یہ کہ فلسطین کا علاقہ ”ارض موعود“ ہے ( وہ زمین جس کا ان کے عقیدے کے مطابق اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے)، اس قول کی بنیاد پر پوپ صاحب عیسائیوں کو مجاہدین کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا حکم دیں گے؟
گزشتہ ہفتوں میں ایک میڈیا رپورٹ کا بہت چرچا رہا۔ اس میں ذکر کیا گیا تھا کہ برطانیہ میں پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور متعدد مشہور تجزیہ نگاروں، ادیبوں اور وکلاءکی جانب سے پوپ کے خلاف برطانوی قانون کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی، بالخصوص بچوں کے حقوق کی پامالی اور ان کے ساتھ جنسی تشدد اور زیادتی کرنے کے الزام میں مقدمات درج کرانے کیلئے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کا بین السطور انتہائی چونکا دینے والاہے لیکن اس سے پہلے اس رپورٹ پر ایک طائرانہ نگاہ لازم ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق پوپ کی طرف سے اس جرم کا ارتکاب اس وقت ہوا جب بینی ڈکٹ ابھی پوپ نہیں تھے اور ”کانگری گیشن آف ڈاکٹرائن فار دی فیتھ“ نامی پادریوں کی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ پادریوں کی یہ کمیٹی چرچ میں ہونے والی جنسی زیادتیوں اور جنسی تشدد کے واقعات کی تحقیق کرتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران پوپ نے چرچ میں موجود ننوں اور راہبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے اور چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے پادریوں کے ساتھ رعایت برتی اور انہیں سزا سے بچایا۔ ظاہر ہے اس وقت بینی ڈکٹ پوپ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے اور بڑے پادریوں کی خوشنودی حاصل کرنا ان کی ضرورت تھی چنانچہ انہوں نے حق و انصاف کی بجائے پادریوں کا ساتھ دینے میں عافیت جانی ہو گی۔ ان کا ایک خط بھی پیش کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ چرچ کو بدنامی سے بچانے کیلئے اس قسم کی زیادتیوں میں ملوث پادریوں کو خصوصی رعایت دی جا سکتی ہے تاکہ پوری دنیا کے آگے چرچ اور کلیسا کا امیج اور عزت خراب نہ ہو۔
2005ءمیں جنسی زیادتی کے کیسز میں پوپ کو امریکی جج کی جانب سے یہ کہہ کر استثناء دیا گیا کہ وہ ایک عیسائی مملکت (ویٹی کن) کے سربراہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے پوپ کے خلاف ان الزامات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن اب سوال یہ ہے کہ یکایک باسی کڑھی میں ابال کیوں؟ یکایک ایسا کیا ہو گیا کہ پوپ کو گرفتاریوں کی دھمکی دی جانے لگی ہے؟ نیشنل پوسٹ کی اخباری رپورٹ کے مطابق پوپ بینی ڈکٹ کی متوقع گرفتاری عالمی سوشل ویب سائٹس کا اہم ترین موضوع بن چکی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کو اس ڈر سے اپنا دورہ برطانیہ مؤخر یا منسوخ کرنا پڑ جائے۔
اس رپورٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کچھ غیبی ہاتھوں کی طرف سے یقینا پوپ پر کسی خاص مطالبے کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور پوپ صاحب اس کو تسلیم کرنے کیلئے حامی نہیں بھر رہے۔ زیادہ گمان یہی ہے کہ یہ مطالبہ گریٹر اسرائیل کے قیام کو عیسائیوں کی ذمہ داری قرار دینا ہو گا۔ جونہی پوپ نے یہ مطالبہ مان لیا، ان کے خلاف تمام پراپیگنڈا جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ یاد رکھنا ہو گا کہ ہالو کاسٹ کے نام پر پراپیگنڈے کے ذریعے یہودی اپنے لیے عیسائی دنیا کی ہمدردیاں پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں چنانچہ گزشتہ پوپ جن کو جان پال دوم کہا جاتا تھا، اپنے دور پاپائیت میں موجودہ دور کے یہودیوں کو قتل مسیح سے بری الزمہ قرار دے چکے ہیں جس کو عیسائی دنیا نے قبول بھی کر لیا ہے۔
قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں بہت بڑے تغیرات متوقع ہیں۔ یہاں ہم اصل سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ اب ہمارے لیے کرنے کا اصل کام کیا ہے اور کیوں ہے؟ اس سوال کا تفصیلی جواب ہم انشاءاللہ آئندہ کالم میں عرض کریں گے۔
0 comments:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔